رنگ کیسے کھیلیں: مکمل قواعد
رنگ، جسے انگریزی میں کورٹ پیس اور کہیں کہیں حکم بھی کہا جاتا ہے، چار کھلاڑیوں کا کھیل ہے جو دو جوڑیوں میں کھیلا جاتا ہے۔ اس کھیل کی کوئی سرکاری کتاب نہیں — یہ میز پر سیکھا جاتا ہے اور علاقے کے ساتھ بدلتا ہے۔ یہ قواعد کھیل کر لکھے گئے ہیں، اور جہاں کسی علاقے میں اصول مختلف ہے وہاں یہ بات صاف لکھی گئی ہے۔

ویڈیو: رنگ کی مکمل گائیڈ، چھ منٹ میں
اس صفحے کی ہر بات اصل رنگ میز پر کھیل کر دکھائی گئی ہے: ٹاس، پتوں کی تقسیم، ترپ رکھنا، رنگ ڈالنا اور کاٹنا، پرانی گنتی، چاروں موڈ، اور ساتھی کے ساتھ اشاروں والے گُر۔
کیا درکار ہے
چار کھلاڑی اور بونن کے بغیر 52 پتوں کی گڈی۔ آپ کا ساتھی آپ کے سامنے بیٹھتا ہے، اس لیے باری دونوں ٹیموں کے درمیان بدلتی رہتی ہے۔ تقسیم اور چال دونوں الٹی سمت (اینٹی کلاک وائز) چلتی ہیں۔ ایک ہاتھ تیرہ چالوں کا ہوتا ہے اور پوری گڈی تقسیم ہوتی ہے۔
ٹاس: پہلا ترپ کون کہے گا
پہلے ہاتھ میں کسی ایک کھلاڑی کو ترپ کہنے کا حق دینے کی کوئی وجہ نہیں ہوتی، اس لیے ٹاس ہوتا ہے۔ ہر کھلاڑی گڈی میں سے ایک پتہ چنتا ہے اور سب اپنا پتہ کھول کر دکھاتے ہیں۔ جس ٹیم کے پاس سب سے بڑا پتہ ہو وہ ترپ کہتی ہے۔ اگر برابر ہو جائے تو ٹاس دوبارہ ہوتا ہے۔
پتوں کی تقسیم
حاکم — یعنی جو ترپ کہے گا — کو پہلے پانچ پتے ملتے ہیں۔ وہ صرف انہی پانچ پتوں کو دیکھ کر ترپ کا اعلان کرتا ہے۔ اس کے بعد باقی پتے چار چار کر کے بانٹے جاتے ہیں، یعنی پانچ، پھر چار، پھر چار، اور ہر کھلاڑی کے پاس تیرہ پتے آ جاتے ہیں۔ ترپ ادھوری معلومات پر کہا جاتا ہے، اسی لیے یہ ہنر مانگتا ہے۔
ترپ (رنگ) کہنا اور تیرہویں کا اصول
ترپ کو رنگ، ترپ اور حکم — سب کہا جاتا ہے، اور وہ رنگ پورے ہاتھ میں باقی تینوں پر بھاری رہتا ہے۔ اگر حاکم کو اپنے پانچ پتے پسند نہ آئیں تو اس کے پاس دو راستے ہیں: وہ دوبارہ تقسیم مانگ سکتا ہے، عام طور پر جب اس کے پاس دہلے سے بڑا کوئی پتہ نہ ہو؛ یا وہ کہہ سکتا ہے کہ ترپ اس کے تیرہویں پتے سے طے ہوگا۔ اسے تیرہویں کہتے ہیں — جو پتہ آخر میں آئے، اسی کا رنگ ترپ بن جاتا ہے۔ دونوں اصول رائج ہیں۔
چال کیسے چلتی ہے
اگر آپ کے پاس چلے ہوئے رنگ کا پتہ ہے تو وہی ڈالنا لازم ہے۔ اگر نہیں ہے تو آپ کوئی بھی پتہ ڈال سکتے ہیں، ترپ بھی — مگر ترپ کاٹنا لازم نہیں، آپ کوئی اور پتہ بھی پھینک سکتے ہیں۔ چال وہ جیتتا ہے جس نے سب سے بڑا ترپ ڈالا ہو؛ اگر ترپ نہ ڈلا ہو تو چلے ہوئے رنگ کا سب سے بڑا پتہ جیتتا ہے۔ جیتنے والا اگلی چال چلتا ہے۔
ہاتھ جیتنا اور اگلا ترپ کون کہے گا
تیرہ میں سے سات چالیں لے لیں تو ہاتھ آپ کا۔ اگلا ترپ کون کہے گا، یہ پچھلے ہاتھ کے نتیجے پر ہے: اپنا کہا ہوا ہاتھ جیت لیں تو ترپ آپ ہی کہتے رہیں گے؛ ہار جائیں تو حق مخالف ٹیم کو چلا جاتا ہے؛ اور اگر آپ نے کورٹ لگا دیا یعنی سارے تیرہ لے لیے، تو ترپ کہنے کا حق آپ کے اپنے ساتھی کے پاس چلا جاتا ہے۔
اسکورنگ: نام ہی نمبر ہیں
ہارا ہوا ہاتھ صفر۔ سات چھ سے جیتیں تو 7۔ خود ترپ کہہ کر سارے تیرہ لے لیں تو 13 — یہی کورٹ ہے، جسے کوٹ اور کوٹ پیس بھی کہتے ہیں۔ اور اگر ترپ مخالف نے کہا ہو اور سارے تیرہ آپ لے جائیں تو 52 — یہی باون ہے، یعنی گون کورٹ۔ باون کا مطلب ہی 52 ہے، اور بیاسی کا 82: یہ سب سے نایاب دعویٰ ہے، جس میں کھلاڑی اپنے پتے مخالفوں کو دکھا کر کہتا ہے کہ پھر بھی سارے تیرہ میں لوں گا۔
پتوں کے نام
میز پر پتے انگریزی ناموں سے نہیں پکارے جاتے۔ اِکّا، بادشاہ، بیگم یا ملکہ، اور غلام — جسے گولا بھی کہتے ہیں۔ اس کے بعد نام گنتی پر چلتے ہیں: دہلا، نہلا، اَٹھی، سَتی، چِھکی، پَنجی، چوکی، تِگی اور دُگّی۔ رنگوں کے بھی نام ہیں: حُکم، پان، اینٹ اور چِڑیا۔ اور ترپ کا اِکّا؟ اسے کوئی نہیں کاٹ سکتا۔ اسی لیے جو مشکل وقت میں بازی پلٹ دے، اسے بھی ترپ کا اِکّا کہتے ہیں۔
رنگ کے گُر: ساتھی کے ساتھ اشاروں میں کھیلیں
رنگ ساتھی کا کھیل ہے۔ ہاتھ کے بارے میں بات کرنا منع ہے، اس لیے اچھے کھلاڑی پتوں سے بات کرتے ہیں۔ زیادہ تر میزوں پر یہ اشارے سمجھے جاتے ہیں۔
- کسی رنگ کی پہلی چال عام طور پر یہ بتاتی ہے کہ چلنے والا اس رنگ میں کمزور ہے۔ آپ کے ساتھی نے رنگ رکھا اور پہلی چال چِڑیا کی چلی؟ سمجھ لیں چِڑیا میں اس کے پاس نہ اِکّا ہے نہ بادشاہ۔
- آپ بھی چِڑیا میں کمزور ہیں؟ تو اپنا سب سے بڑا پتہ ڈالیں تاکہ سر اپنے ہاتھ میں رہے، اور اگلی چال پھر چِڑیا کی چلیں۔
- چِڑیا میں مضبوط ہیں؟ تو سر بیگم یا غلام جیسے بیچ کے پتے سے لیں۔ ساتھی سمجھ جائے گا کہ چِڑیا آپ سنبھال لیں گے۔
- جب آپ کے پتے اچھے ہوں تو چال بدل دیں اور وہ رنگ چلیں جس میں آپ کمزور ہیں، جیسے پان۔ ساتھی جان جائے گا کہ پان میں آپ کو مدد چاہیے۔
- ساتھی سر لے رہا ہو تو اپنا بڑا پتہ ضائع نہ کریں، چھوٹا پتہ ڈال دیں۔
ترپ کی گنتی
گڈی میں تیرہ ترپ ہوتے ہیں، اور ان کی گنتی رکھنا وہ عادت ہے جو سب سے زیادہ ہاتھ جتواتی ہے۔
- شروع میں اپنے ترپ گن لیں۔ آپ کے پاس چار ہیں تو باقی نو، تین کھلاڑیوں کے پاس ہیں۔
- جو بھی ترپ گرے، گنتے جائیں۔ ترپ کی ایک پوری چال میں چار ترپ نکل جاتے ہیں۔
- جو کھلاڑی ترپ کی چال پر ترپ نہ ڈالے، اس کے ترپ ختم ہو چکے ہیں۔ یاد رکھیں وہ کون تھا۔
- جب سارے ترپ نکل جائیں تو آپ کا اِکّا اور بادشاہ کوئی نہیں کاٹ سکتا، پھر بے فکر ہو کر چلیں۔
آداب اور بے ایمانی
رنگ جوڑی کا کھیل ہے اور ساتھی کو اپنے پتے بتانے کا کوئی جائز طریقہ نہیں۔ کھیل کے دوران ساتھی سے بات کرنا صاف بے ایمانی سمجھا جاتا ہے۔ مخالف کے پتوں میں جھانکنا بدتمیزی ہے۔ اشاروں کا ایک بڑا مشکوک علاقہ بھی ہے: پتہ زور سے پھینکنا، آخری ترپ پر انگلی مارنا، کوئی طے شدہ لفظ، یا نظروں کا تبادلہ — کوئی بھی میز اسے جائز نہیں کہتی، مگر سختی ہر میز پر الگ ہے۔
رینیگ: وہ بے ایمانی جو ہاتھ کا فیصلہ کرتی ہے
سب سے سنگین بات اشارے نہیں بلکہ رینیگ ہے: چلے ہوئے رنگ کا پتہ ہوتے ہوئے یہ ظاہر کرنا کہ آپ کے پاس نہیں، اور کوئی اور پتہ ڈال کر وہ پتہ چھپا لینا۔ چونکہ رنگ کی پیروی لازم ہے، اس لیے یہ چوری ہے اور ایک ہی بار پورے ہاتھ کا رخ بدل سکتی ہے۔ میز پر یہ پکڑے جانے پر منحصر ہے؛ آن لائن کھیلتے ہوئے یہ ممکن ہی نہیں، کیونکہ کھیل آپ کو صرف وہی پتے چلنے دیتا ہے جو قاعدے کے مطابق جائز ہوں۔
یہ قواعد کہاں سے آئے
رنگ کی نہ کوئی سرکاری تنظیم ہے، نہ کوئی چھپی ہوئی کتاب۔ یہاں جو کچھ لکھا ہے وہ اس شخص کے اپنے کھیلنے کا نچوڑ ہے جس نے یہ سائٹ بنائی — سندھ کے شہروں اور دیہات میں، پنجاب میں، اور جرمنی میں کھیلی گئی میزوں سے۔ یہ کسی اور تحریر سے نقل نہیں کیا گیا، اور یہی وجہ ہے کہ وہی چند غلطیاں ایک صفحے سے دوسرے صفحے پر منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ جہاں اصول واقعی علاقے کے ساتھ بدلتا ہے، وہاں یہ بات لکھ دی گئی ہے۔ اگر آپ کی میز پر کوئی اصول مختلف ہے تو ضرور بتائیے — اسے بھی یہیں شامل کر لیا جائے گا۔
علاقائی فرق
رنگ کی کوئی کتاب کبھی نہیں لکھی گئی۔ یہ میز پر منتقل ہوتا ہے، اس لیے بہت سی جگہوں پر ایک علاقے کا اصول سب کا اصول بنا کر لکھ دیا جاتا ہے۔ سب سے واضح مثال خود لفظ کورٹ ہے۔ کئی تحریروں میں سات چالیں جیتنے کو کوٹ کہا گیا ہے، جبکہ سندھ کے شہروں میں، خاص طور پر کراچی میں، کورٹ صرف اور صرف سارے تیرہ کو کہتے ہیں اور سات چھ محض ایک جیت ہے۔ دونوں غلط نہیں — دونوں الگ میزیں ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ کھیل شروع کرنے سے پہلے طے کر لیا جائے کہ آج کس اصول پر کھیلا جائے گا۔
عام سوالات
رنگ میں کتنے کھلاڑی ہوتے ہیں؟
چار کھلاڑی، دو جوڑیوں میں، اور ساتھی ایک دوسرے کے سامنے بیٹھتے ہیں۔ تقسیم اور چال دونوں الٹی سمت میں چلتی ہیں۔
پتے کیسے بانٹے جاتے ہیں؟
حاکم کو پہلے پانچ پتے ملتے ہیں اور وہ انہی پر ترپ کہتا ہے۔ اس کے بعد باقی پتے چار چار کر کے بانٹے جاتے ہیں — پانچ، چار، چار — یہاں تک کہ ہر کھلاڑی کے پاس تیرہ ہو جائیں۔
تیرہویں کا اصول کیا ہے؟
اگر حاکم کو اپنے پانچ پتے پسند نہ آئیں تو وہ ترپ کہنے کے بجائے کہہ سکتا ہے کہ ترپ اس کے تیرہویں پتے سے طے ہوگا۔ جو پتہ آخر میں آئے، اسی کا رنگ ترپ بن جاتا ہے۔
کیا رنگ نہ ہونے پر ترپ کاٹنا لازم ہے؟
نہیں۔ چلے ہوئے رنگ کی پیروی لازم ہے، مگر اگر وہ رنگ آپ کے پاس نہ ہو تو آپ کوئی بھی پتہ ڈال سکتے ہیں۔ ترپ کاٹنا آپ کی مرضی ہے۔
باون اور بیاسی کا کیا مطلب ہے؟
باون یعنی 52: ترپ مخالف نے کہا اور سارے تیرہ آپ لے گئے۔ بیاسی یعنی 82: کھلاڑی اپنے پتے دکھا کر دعویٰ کرتا ہے کہ پھر بھی سارے تیرہ لے گا، اور لے جاتا ہے۔
کورٹ سات چالیں ہیں یا سارے تیرہ؟
یہ علاقے پر ہے۔ کئی تحریروں میں سات چالوں کو کوٹ کہا گیا ہے، مگر سندھ کے شہروں میں اور خاص طور پر کراچی میں کورٹ کا مطلب سارے تیرہ ہے۔ کھیل سے پہلے طے کر لیں۔
ان ناموں سے بھی جانا جاتا ہے: Court Piece · Coat Pees · Hukum · حکم · Rung · رنگ · Troeff Call · Trump